9 اشعار

پھر سے ہم پڑ گئے محبت میں

phir se hum paD gae mohabbat mein

پھر سے ہم پڑ گئے محبت میںتجھ کو رونا نہیں تھا قسمت میں

وہ جو سنجیدگی سے کہنا تھاوہ تو ہم کہہ چکے شرارت میں

ہوش میں کب ہمارے بس کے تھےکام نمٹا لیے جو وحشت میں

اک پرانی نماز یاد آئیاور خلل پڑ گیا عبادت میں

روز میرے لیے قیامت تھیروز ٹلتی ہوئی قیامت میں

بس وہی مانگنے نہیں آتےجن کا حصہ ہے میری دولت میں

یاد رکھنا گناہ گار ہو تممسکرانا نہیں عدالت میں

آخری جام نے بگاڑی باتبس نہیں کہہ سکے مروت میں

مسکرا کر وداع کرتا ہوںیہ بھی اب آ گیا ہے عادت میں

— شارق کیفی