5 اشعار

روز کا اک مشغلہ کچھ دیر کا

qabr ki aaghosh mein utri nahin

روز کا اک مشغلہ کچھ دیر کااس گلی کا راستہ کچھ دیر کا

بات کیا بڑھتی کہ جب معلوم تھاساتھ ہے کچھ دور کا کچھ دیر کا

عمر بھر کو ایک کر جاتا ہمیںحوصلہ تیرا مرا کچھ دیر کا

پھر مجھے دنیا میں شامل کر گیاخود سے میرا واسطہ کچھ دیر کا

اب نہیں تو کل یہ رشتہ ٹوٹتافرق کیا پڑتا بھلا کچھ دیر کا

— شارق کیفی