5 اشعار

وہ دن بھی کیسا ستم مجھ پہ ڈھا کے جائے گا

wo din bhi kaisa sitam mujh pe Dha ke jaega

وہ دن بھی کیسا ستم مجھ پہ ڈھا کے جائے گاجب اس کی شکل نہیں نام دھیان آئے گا

اداس شام کی تنہائیوں میں میرا خیالشفق کا لال دوپٹہ تجھے اوڑھائے گا

ابھی تو خیر خیالوں میں آنا جانا ہےکچھ ایک دن میں یہ رشتہ بھی ٹوٹ جائے گا

بچھڑتے وقت نمی بھی نہ آئی آنکھوں میںہمیں گماں تھا یہ منظر بہت رلائے گا

کسے خبر تھی مرا ہی گڑھا ہوا کردارمرے ہی ہاتھ میں انگلی نہیں تھمائے گا

— شارق کیفی