6 اشعار

قصوروار نہ ٹھہرائیے خدا کے لئے

qusur-war na Thahraiye KHuda ke liye

قصوروار نہ ٹھہرائیے خدا کے لئےہمارا بوجھ زیادہ تھا اس ہوا کے لئے

ہوئی وہ عشق میں حالت کہ مسجدوں میں تمامہمارا نام پکارا گیا دعا کے لئے

ملال دل میں اگر کوئی ہے تو اتنا ہےکہ میری عمر زیادہ تھی اس خطا کے لئے

کھلا کہ ہم ہی نہیں ہیں گناہ گار ترےقطار بند ہوئے لوگ جب سزا کے لئے

چلے تو آئے ہو مرنے کو اسپتالوں میںذرا سی دھول کو ترسو گے نقش پا کے لئے

ذرا سی بات تھی تجھ سے مجھے ملانا تھایہ کام اتنا بڑا ہو گیا خدا کے لئے

— شارق کیفی