7 اشعار

ترے غم سے ابھرنا چاہتا ہوں

tere gham se ubharna chahta hun

ترے غم سے ابھرنا چاہتا ہوںمیں اپنی موت مرنا چاہتا ہوں

دھدھکتی آگ ہے سائے میں جس کےپسینہ خشک کرنا چاہتا ہوں

یہ فن اتنا مگر آساں کہاں ہےضرورت بھر بکھرنا چاہتا ہوں

نہیں ڈھونا یہ بوڑھا جسم مجھ کوسواری سے اترنا چاہتا ہوں

کسی کی نبض پر ہو ہاتھ میراعلاج اپنا ہی کرنا چاہتا ہوں

تبھی میں مشورہ کرتا ہوں سب سےجب اپنے دل کی کرنا چاہتا ہوں

خدا جانے اسے کھونے سے شارقؔمیں ڈرتا ہوں کہ ڈرنا چاہتا ہوں

— شارق کیفی