6 اشعار

سامنے اپنے کھڑے ہو جائیں گے

samne apne khaDe ho jaenge

سامنے اپنے کھڑے ہو جائیں گےہم کبھی اتنے بڑے ہو جائیں گے

دور سارے مسئلے ہو جائیں گےپھر سے ہم اچھے بھلے ہو جائیں گے

جب بدل جائیں گے محفل کے شریکآپ کے جادو نئے ہو جائیں گے

شکر ہے اپنے سفر چھوٹے نہیںبیشتر سوتے ہوئے ہو جائیں گے

غم کہ جو رونے سے بچ جائیں گے آجدوسرے دن کے لیے ہو جائیں گے

روزمرہ سے نکل کر ہم ترےبس ضروری کام کے ہو جائیں گے

— شارق کیفی