5 اشعار

شکل بدلی اور اندر آ گیا

shakl badli aur andar aa gaya

شکل بدلی اور اندر آ گیادکھ نئے کپڑے بدل کر آ گیا

اس نے دیکھا اور آنکھیں پھیر لیںبوجھ سب میری نظر پر آ گیا

راستے بھر اوب میں ڈوبے رہےجب سفر میں دل لگا گھر آ گیا

اس سمندر کے تھے اتنے تذکرےمیں نہ جانے کیا سمجھ کر آ گیا

میں تو اپنے آپ کو حاصل نہیںآپ کو کیسے میسر آ گیا

— شارق کیفی