5 اشعار

اسے بھی کوئی مشغلہ چاہیے تھا

use bhi koi mashghala chahiye tha

اسے بھی کوئی مشغلہ چاہیے تھاہمیں بھی کوئی دوسرا چاہیے تھا

ہمارے بدن میں تھی مٹی کی خوشبواور اس کو کوئی دیوتا چاہیے تھا

مصیبت تو یہ تھی کہ میرے علاوہاسے اور سب کچھ نیا چاہیے تھا

ہر آرام گھر میں میسر تھا لیکنبدن کو تھکن کا نشہ چاہیے تھا

ذرا سی لگن اور خدا کا بھروسہبس اس کے سوا ہم کو کیا چاہیے تھا

— شارق کیفی