6 اشعار

وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھی

wo din bhi the ki in aankhon mein itni hairat thi

وہ دن بھی تھے کہ ان آنکھوں میں اتنی حیرت تھیتمام بازی گروں کو مری ضرورت تھی

وہ بات سوچ کے میں جس کو مدتوں جیتابچھڑتے وقت بتانے کی کیا ضرورت تھی

پتا نہیں یہ تمنائے قرب کب جاگیمجھے تو صرف اسے سوچنے کی عادت تھی

خموشیوں نے پریشاں کیا تو ہوگا مگرپکارنے کی یہی صرف ایک صورت تھی

گئے بھی جان سے اور کوئی مطمئن نہ ہواکہ پھر دفاع نہ کرنے کی ہم پہ تہمت تھی

کہیں پہ چوک رہے ہیں یہ آئنے شایدنہیں تو عکس میں اب تک مری شباہت تھی

— شارق کیفی