6 اشعار

تبھی تو بھیڑ بے شمار ہے یہاں

tabhi to bhiD be-shumar hai yahan

تبھی تو بھیڑ بے شمار ہے یہاںبری خبر کا انتظار ہے یہاں

جہان سارا اسپتال کیوں نہیںکہ اجنبی بھی غم گسار ہے یہاں

نہ فصل مختلف ہے کھیت کھیت کینہ میڑھ پر کٹیلا تار ہے یہاں

یہ آئنہ یہ ٹوٹا پھوٹا آئنہیہی تو ایک اپنا یار ہے یہاں

قطار اس لیے بھی ٹوٹتی نہیںخدا ہی اک دکان دار ہے یہاں

ہزار بار امتحاں میں بیٹھیےوہی سوال بار بار ہے یہاں

— شارق کیفی