6 اشعار

تری طرف سے تو ہاں مان کر ہی چلنا ہے

teri taraf se to han man kar hi chalna hai

تری طرف سے تو ہاں مان کر ہی چلنا ہےکہ سارا کھیل اس امید پر ہی چلنا ہے

قدم ٹھہر ہی گئے ہیں تری گلی میں تو پھریہاں سے کوئی دعا مانگ کر ہی چلنا ہے

رہے ہو ساتھ تو کچھ وقت اور دے دو ہمیںیہاں سے لوٹ کے بس اب تو گھر ہی چلنا ہے

مخالفت پہ ہواؤں کی کیوں پریشاں ہوںتمہاری سمت اگر عمر بھر ہی چلنا ہے

کوئی امید نہیں کھڑکیوں کو بند کروکہ اب تو دشت بلا کا سفر ہی چلنا ہے

ذرا سا قرب میسر تو آئے اس کا مجھےکہ اس کے بعد زباں کا ہنر ہی چلنا ہے

— شارق کیفی