4 اشعار

تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے

to kya marna bhi ab mumkin nahin hai

تو کیا مرنا بھی اب ممکن نہیں ہے؟یہ میں ہوں کیا؟

جو سب ہم راہیوں سےبے سبب لڑتا جھگڑتا پھر رہا ہوں

سیٹ کی خاطراک ایسی ٹرین میں

چنا تھا جس کو تھوڑی دیر پہلےخودکشی کرنے کو میں نے

— شارق کیفی