7 اشعار

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہے

wo bakra phir akela paD gaya hai

وہ بکرا پھر اکیلا پڑ گیا ہےکہ مرا ہاتھ بھی ڈونگے میں اچھی بوٹیوں کو ڈھونڈتا ہے

وہی بکراکھڑا رکھا گیا ہے جس کو کونے میں نگاہوں سے چھپا کر

وہ جس کی زندگی ہے منحصر اس بات پرکہ ہم کھائیں گے کتنا

اور کتنا چھوڑ دیں گے بس یوں ہی اپنی پلیٹوں میںابھی کچھ دیر پہلے میں کھڑا تھا پاس جس کے

اور جس کے زاویے سے دیکھ کر محفل کوآنکھیں ڈبڈبا آئی تھیں میری

مگر وہ پل کبھی کا جا چکا تھاکہ اب ہوں میز پر میں

اور میرا ہاتھ بھی ڈونگے میں اچھی بوٹیوں کو ڈھونڈتا ہےوہ بکر پھر اکیلا پڑ گیا ہے

— شارق کیفی