6 اشعار

یار کا کردار آئینہ نبھا سکتا نہیں

yar ka kirdar aaina nibha sakta nahin

یار کا کردار آئینہ نبھا سکتا نہیںیہ تماشہ دیکھ سکتا ہے دکھا سکتا نہیں

اتنی باتیں کر چکا ہوں اک خیالی یار کیعشق پہلا ہے مگر پہلا بتا سکتا نہیں

سب کتابوں میں رکھے وہ پھول اب بے کار ہیںمیں پرانی دھوپ میں جن کو کھلا سکتا نہیں

اب بہت مشکل ہے پیچھا چھوٹنا مجھ سے ترابے وفا ہونا بھی تیرے کام آ سکتا نہیں

سسکیوں میں ساتھ دے سکتا ہے رونا ہو جسےقہقہہ اس کے لئے جو مسکرا سکتا نہیں

تیری جتنی پینے والے تو بہت ہوں گے مگرتیرے جیسا کوئی شارقؔ لڑکھڑا سکتا نہیں

— شارق کیفی