6 اشعار

یوں بھی آواز کو اونچا نہیں کر پائے ہم

yun bhi aawaz ko uncha nahin kar pae hum

یوں بھی آواز کو اونچا نہیں کر پائے ہماپنے غصے پہ بھروسہ نہیں کر پائے ہم

آ بدن کو ہی ترے ہاتھ لگا کر دیکھیںآگ پتھر سے تو پیدا نہیں کر پائے ہم

شکل دنیا کی بدلنا تو بہت دور کی باتایک کمرے کو بھی کمرہ نہیں کر پائے ہم

جس میں ہر بات کہی جاتی ہے آسانی سےایسے حالات ہی پیدا نہیں کر پائے ہم

کوئی سکہ نہیں چادر پہ تو حیرت کیا ہےاک تماشہ کبھی پورا نہیں کر پائے ہم

وہ بھی ان چند مریضوں میں ہے شامل شارقؔمسکرا کر جنہیں اچھا نہیں کر پائے ہم

— شارق کیفی