3 اشعار

بات کر کے وہ کچھ تو دھارے سے

Baat kar ke woh kuch to dhaare se

بات کر کے وہ کچھ تو دھارے سےہٹ گیا تھا ذرا کنارے سے

سر اٹھانے لگی ہی تھیں موجیںاس نے کچھ کہہ دیا اشارے سے

اب جو پلٹے ہیں کربلا کی طرفبچ گے ہیں بڑے خسارے سے

— تنویر دانش