5 اشعار

کھینچ کر روشنی میں لایا گیا

Kheench kar roshni mein laya gaya

کھینچ کر روشنی میں لایا گیاآدمی آدمی بنایا گیا

اک مہارت سے نبض کاٹی گئیاور اسے حادثہ بتایا گیا

خواب آلود رہ گئیں آنکھیںہم کو تعبیر سے ڈرایا گیا

سانس لینا کہاں ضروری تھاکام چلتا تھا بس چلایا گیا

میرا پہلا قدم تھا امبر پرجب نظر سے مجھے گرایا گیا

— تنویر دانش

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں