7 اشعار

بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بس

Bandook taante hain hadaf dekhte hain bas

بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بس

«بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بس» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ایمان نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 46 سیکنڈ ہے۔

بندوق تانتے ہیں ہدف دیکھتے ہیں بساپنا ہے بے ضرر سا شغف دیکھتے ہیں بس

وہ جن کو مانگنا بھی پڑے اور لوگ ہیںہم لوگ آسماں کی طرف دیکھتے ہیں بس

گھڑیاں تو بک گئی تھیں برے وقت میں تماماب عادتاً قمیض کے کف دیکھتے ہیں بس

اپنی جگہ پتہ ہے سو مسجد میں جا کے ہمجوتوں کے آس پاس کی صف دیکھتے ہیں بس

مجھ کو بہ‌ غور دیکھ کے کہنے لگا فقیرایسے مریض شاہ نجف دیکھتے ہیں بس

تو دیکھ بس خلا میں معلق یہ کائناتاس سے پرے تو اہل شرف دیکھتے ہیں بس

کیوں پوچھتے ہیں خود کو کہاں دیکھتے ہیں کلخاکی ہیں خود کو خاک میں لف دیکھتے ہیں بس

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں