7 اشعار

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے

Ek tareekh-e-muqar'rar pe tu har maah mile

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے

«ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملے» عمیر نجمی کا کلام ہے، جسے ایم سعید نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)» میں 1 جنوری 2026 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 1 سیکنڈ ہے۔

ایک تاریخ مقرر پہ تو ہر ماہ ملےجیسے دفتر میں کسی شخص کو تنخواہ ملے

رنگ اکھڑ جائے تو ظاہر ہو پلستر کی نمیقہقہہ کھود کے دیکھو تو تمہیں آہ ملے

جمع تھے رات مرے گھر ترے ٹھکرائے ہوئےایک درگاہ پہ سب راندۂ درگاہ ملے

میں تو اک عام سپاہی تھا حفاظت کے لئےشاہ زادی یہ ترا حق تھا تجھے شاہ ملے

ایک اداسی کے جزیرے پہ ہوں اشکوں میں گھرامیں نکل جاؤں اگر خشک گزر گاہ ملے

اک ملاقات کے ٹلنے کی خبر ایسے لگیجیسے مزدور کو ہڑتال کی افواہ ملے

گھر پہنچنے کی نہ جلدی نہ تمنا ہے کوئیجس نے ملنا ہو مجھے آئے سر راہ ملے

— عمیر نجمی

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں