بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہے
کلام: عمیر نجمی
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہےبچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہے
یہ روح برسوں سے دفن ہے تم مدد کرو گےبدن کے ملبے سے اس کو زندہ نکالنا ہے
نکال لایا ہوں پنجرے سے ایک پرندہ (عمیر نجمی)
مہمان شاعر: عمیر نجمی
بڑے تحمل سے رفتہ رفتہ نکالنا ہےبچا ہے جو تجھ میں میرا حصہ نکالنا ہے
یہ روح برسوں سے دفن ہے تم مدد کرو گےبدن کے ملبے سے اس کو زندہ نکالنا ہے
لیتے تھے لطف ہم اَدَبی اختلاف کاچیخوف اُسے پسند تھا اور مجھ کو کافکا
میں گھومتا ہوں، گھومتی کرسی پہ، دل کے گِردلیتا ہوں اجر، خانہِ رب کے طواف کا