11 اشعار

آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کا

Aaina-e-khayal tha aks pazeer-e-raaz ka

آئینۂ خیال تھا عکس پذیر راز کاطور شہید ہو گیا جلوۂ دل نواز کا

پایہ بہت کیا بلند اس نے حریم ناز کاتا نا پہنچ سکے غبار رہ گزر‌ نیاز کا

خستگیٔ کلیم نے نکتہ عجب سمجھا دیاورنہ حریف میں بھی تھا اس مژۂ دراز کا

دیر ملا تھا راہ میں کعبے کو ہم نکل گئےجذبۂ شوق میں دماغ کس کو ہو امتیاز کا

بندگی اور صاحبی اصل میں دونوں ایک ہیںجس کا غلام ایاز ہے وہ ہے غلام ایاز کا

گو تہی نصیب نے دور رکھا تو کیا ہوابندۂ خانہ زاد ہوں اس کے قد دراز کا

شوق ترا ہے موجزن ذوق ترا بہانہ جوکھول نہ دیں بھرم کہیں پرد گیان راز کا

مستیٔ بے خودی سے یاں آنکھ کھلی نہ حشر تکیعنی یہی جواب تھا نرگس نیم باز کا

آہ و فغاں کے ساتھ ساتھ چھا گئی ایک بے خودیقطع زباں ضرور تھا شمع زباں دراز کا

خاک میں مل گئے ولے آنکھ اٹھی نہ شرم سےہم سے ہوا نہ حق ادا اس کی نگاہ ناز کا

مطرب خلد کیا سنائے وحشت خستہ کیا سنےمعتقد قدیم ہے زمزمہ حجاز کا

— وحشت رضا علی