5 اشعار

درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہے

Dard aa ke badha do dil ka tum yeh kaam tumhein kya mushkil hai

درد آ کے بڑھا دو دل کا تم یہ کام تمہیں کیا مشکل ہےبیمار بنانا آساں ہے ہر چند مداوا مشکل ہے

الزام نہ دیں گے ہم تم کو تسکین میں کوئی کی نہ کمیوعدہ تو وفا کا تم نے کیا کیا کیجئے ایفا مشکل ہے

دل توڑ دیا تم نے میرا اب جوڑ چکے تم ٹوٹے کووہ کام نہایت آساں تھا یہ کام بلا کا مشکل ہے

آغاز سے ظاہر ہوتا ہے انجام جو ہونے والا ہےانداز زمانہ کہتا ہے پوری ہو تمنا مشکل ہے

موقوف کرو اب فکر سخن وحشتؔ نہ کرو اب ذکر سخنجو کام کہ بے حاصل ٹھہرا دل اس میں لگانا مشکل ہے

— وحشت رضا علی