5 اشعار

چلا جاتا ہے کاروان نفس

Chala jata hai karwan-e-nafas

چلا جاتا ہے کاروان نفسنہ بانگ درا ہے نہ صوت جرس

برس کتنے گزرے یہ کہتے ہوئےکہ کچھ کام کر لیں گے اب کے برس

نہ وہ پوچھتے ہیں نہ کہتا ہوں میںرہی جاتی ہے دل کی دل میں ہوس

وہ حسرت زدہ صید میں ہی تو ہوںہے پرواز جس کی دردن ہوس

ستم ہیں یہ وحشتؔ تری غفلتیںتجھے کاش ہوتا شمار نفس

— وحشت رضا علی