10 اشعار

وحشتؔ مبتلا خدا کے لیے

Wahshatؔ mubtala Khuda ke liye

وحشتؔ مبتلا خدا کے لیےجان دیتا ہے کیوں وفا کے لیے

آشنا سب ہوئے ہیں بیگانےایک بیگانہ آشنا کے لیے

ہم نے عالم سے بے وفائی کیایک معشوق بے وفا کے لیے

تھا اسے ذوق عاشق آزاریخوب میں نے مزے جفا کے لیے

غالب آئی فرامشی اس کیوعدہ تڑپا کیا وفا کے لیے

یہ بھی تیری گدا نوازی تھیمیں نے بوسے جو نقش پا کے لیے

ذوق نظارہ نے کیا ہے خاکسرمہ ہوں چشم سرمہ سا کے لیے

جستجو ننگ آرزو نکلیدرد رسوا ہوا دوا کے لیے

بڑھ چلی ہے بہت حیا تیریمجھ کو رسوا نہ کر خدا کے لیے

ہے خموشی مجھے زباں وحشتؔفکر کیا عرض مدعا کے لیے

— وحشت رضا علی