6 اشعار

کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہو

Kehte ho ab mere mazloom pe bedaad na ho

کہتے ہو اب مرے مظلوم پہ بیداد نہ ہوستم ایجاد ہو پھر کیوں ستم ایجاد نہ ہو

نہیں پیمان وفا تم نے نہیں باندھا تھاوہ فسانہ ہی غلط ہے جو تمہیں یاد نہ ہو

تم نے دل کو مرے کچھ ایسا کیا ہے ناشادشاد کرنا بھی جو اب چاہو تو یہ شاد نہ ہو

جو گرفتار تمہارا ہے وہی ہے آزادجس کو آزاد کرو تم کبھی آزاد نہ ہو

میرا مقصد کہ وہ خوش ہوں مری خاموشی سےان کو اندیشہ کہ یہ بھی کوئی فریاد نہ ہو

میں نہ بھولوں غم عشق کا احساں وحشتؔان کو پیمان محبت جو نہیں یاد نہ ہو

— وحشت رضا علی