7 اشعار

درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریں

Dard ka mere yaqeen aap karein ya na karein

درد کا میرے یقیں آپ کریں یا نہ کریںعرض اتنی ہے کہ اس راز کا چرچا نہ کریں

لاکھ غافل سہی پر ایسے بھی ہم کور نہیںکہ چمن دیکھ کے ذکر چمن آرا نہ کریں

عقل و دانش سے تو کچھ کام نہ نکلا اپناکب تک آخر دل دیوانہ کا کہنا نہ کریں

وہ نگاہیں عجب انداز سے ہیں عشوہ فروشغم پنہاں کو ہمارے کہیں رسوا نہ کریں

تیرے آشفتہ سر ایسے بھی نہیں سودائیکہ دل و دیں کے لئے زلف کا سودا نہ کریں

میں نے بیہودہ توقع کی سزا پائی ہےکچھ خیال آپ مری حسرت دل کا نہ کریں

میرے ارمانوں کو کاش اتنی سمجھ ہو وحشتؔکہ ان آنکھوں سے مروت کا تقاضا نہ کریں

— وحشت رضا علی