8 اشعار

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیں

Lutf-e-nihan se jab jab woh muskura diye hain

لطف نہاں سے جب جب وہ مسکرا دئیے ہیںمیں نے بھی زخم دل کے ان کو دکھا دئیے ہیں

کچھ حرف آرزو تھا کچھ یاد عیش رفتہجتنے تھے نقش دل میں ہم نے مٹا دیئے ہیں

فرط غم و الم سے جب دل ہوا ہے گریاںاس نے عنایتوں کے دریا بہا دیئے ہیں

دیکھے ہیں تیرے تیور دھوکا نہ کھائیں گے اباٹھتے تھے ولولے کچھ ہم نے دبا دیئے ہیں

اس دل نشیں ادا کا مطلب کبھی نہ سمجھےجب ہم نے کچھ کہا ہے وہ مسکرا دیئے ہیں

شوخ کر دیا ہے چھڑیوں سے ہم نے تم کوکچھ حوصلے ہمارے تم نے بڑھا دیئے ہیں

کوئی تجھ کو دیکھے پردہ اٹھانے والےتو نے تجلیوں کے پردے گرا دیئے ہیں

کرتا ہوں وحشتؔ ان سے عرض نیاز پنہاںاس کام کے طریقے دل نے بتا دیئے ہیں

— وحشت رضا علی