7 اشعار

ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گے

Hue hain gum jis ki justuju mein usi ki hum justuju karenge

ہوئے ہیں گم جس کی جستجو میں اسی کی ہم جستجو کریں گےرکھا ہے محروم جس نے ہم کو اسی کی ہم آرزو کریں گے

گئے وہ دن جب کہ اس چمن میں ہوائے نشو و نما تھی ہم کوخزاں کو دیکھا نہیں ہے ہم نے کہ خواہش رنگ و بو کریں گے

حکایت آرزو ہے نازک زبان کیا خاک کہہ سکے گیلب خموش و نگاہ حسرت سے دل کی ہم گفتگو کریں گے

جگہ جو آنکھوں میں میں نے دی تھی تو ان سے تھی چشم راز دارییہ کیا خبر تھی کہ اشک میرے مجھی کو بے آبرو کریں گے

ابھی تو گم کردہ راہ خود ہیں مئے محبت کی بے خودی میںاگر کبھی آپ میں ہم آئے تو اس کی بھی جستجو کریں گے

اس انجمن میں کہ چشم ساقی کفیل ہو عیش زندگی کیوہ بادہ خواری میں خام ہوں گے جو فکر جام و سبو کریں گے

طہارت‌ ظاہری سے حاصل نہ ہو سکے گی صفائے باطنبہا کے ہم خون توبہ وحشتؔ اسی سے اک دن وضو کریں گے

— وحشت رضا علی