5 اشعار

پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھے

Poshida dekhti hai kisi ki nazar mujhe

پوشیدہ دیکھتی ہے کسی کی نظر مجھےدیکھ اے نگاہ شوق تو رسوا نہ کر مجھے

مقصد سے بے نیاز رہا ذوق جستجومیں بے خبر ہوا جو ہوئی کچھ خبر مجھے

میں شب کی بزم عیش کا ماتم نشیں ہوں آپرو رو کے کیوں رلاتی ہے شمع سحر مجھے

حیرت نے میری آئینہ ان کو بنا دیاکیا دیکھتے کہ رہ گئے وہ دیکھ کر مجھے

قربان جاؤں چھوڑ تکلف کی گفتگوکہہ کر پکار وحشتؔ شوریدہ سر مجھے

— وحشت رضا علی