7 اشعار

کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوں

Kisi tarah din to kat rahe hain fareb-e-ummeed kha raha hoon

کسی طرح دن تو کٹ رہے ہیں فریب امید کھا رہا ہوںہزارہا نقش آرزو کے بنا رہا ہوں مٹا رہا ہوں

وفا مری معتبر ہے کتنی جفا وہ کر سکتے ہیں کہاں تکجو وہ مجھے آزما رہے ہیں تو میں انہیں آزما رہا ہوں

کسی کی محفل کا نغمۂ نے محرک نالہ و فغاں ہےفسانۂ عیش سن رہا ہوں فسانۂ غم سنا رہا ہوں

زمانہ بھی مجھ سے نا موافق میں آپ بھی دشمن سلامتتعجب اس کا ہے بوجھ کیونکر میں زندگی کا اٹھا رہا ہوں

نہ ہو مجھے جستجوئے منزل مگر ہے منزل مری طلب میںکوئی تو مجھ کو بلا رہا ہے کسی طرف کو تو جا رہا ہوں

یہی تو ہے نفع کوششوں کا کہ کام سارے بگڑ رہے ہیںیہی تو ہے فائدہ ہوس کا کہ اشک حسرت بہا رہا ہوں

خدا ہی جانے یہ سادہ لوحی دکھائے گی کیا نتیجہ وحشتؔوہ جتنی الفت گھٹا رہے ہیں اسی قدر میں بڑھا رہا ہوں

— وحشت رضا علی