7 اشعار

جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گی

Jaan us ki adaon par nikalti hi rahegi

جان اس کی اداؤں پر نکلتی ہی رہے گییہ چھیڑ جو چلتی ہے سو چلتی ہی رہے گی

ظالم کی تو عادت ہے ستاتا ہی رہے گااپنی بھی طبیعت ہے بہلتی ہی رہے گی

دل رشک عدو سے ہے سپند سر آتشیہ شمع تری بزم میں جلتی ہی رہے گی

غمزہ ترا دھوکا یوں ہی دیتا ہی رہے گاتلوار ترے کوچے میں چلتی ہی رہے گی

اک آن میں وہ کچھ ہیں تو اک آن میں کچھ ہیںکروٹ مری تقدیر بدلتی ہی رہے گی

انداز میں شوخی میں شرارت میں حیا میںواں ایک نہ اک بات نکلتی ہی رہے گی

وحشتؔ کو رہا انس جو یوں فن سخن سےیہ شاخ ہنر پھولتی پھلتی ہی رہے گی

— وحشت رضا علی