7 اشعار

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہے

Zabt ki koshish hai jaan-e-natawan mushkil mein hai

ضبط کی کوشش ہے جان ناتواں مشکل میں ہےکیوں عیاں ہو آنکھ سے وہ غم جو پنہاں دل میں ہے

جس سے چاہو پوچھ لو تم میرے سوز دل کا حالشمع بھی محفل میں ہے پروانہ بھی محفل میں ہے

عشق غارت گر نے شہہ دی حسن آفت خیز کوشوق بسمل ہی سے کس بل بازوئے قاتل میں ہے

کچھ سمجھ کر ہی ہوا ہوں موج دریا کا حریفورنہ میں بھی جانتا ہوں عافیت ساحل میں ہے

خود تجھے آ جائے گا عاشق نوازی کا خیالتیرا رہرو کیوں خیال دوریٔ منزل میں ہے

مدعائے عشق میرا کچھ نہیں جز ذوق عشقحسن کو حیرت کہ یہ کس سعیٔ بے حاصل میں ہے

اپنی شان بے نیازی پر تمہیں کیا کیا ہیں نازکاش تم اس شوق کو جانو جو میرے دل میں ہے

— وحشت رضا علی