8 اشعار

لوٹا مجھے اس کی ہر ادا نے

Loota mujhe us ki har ada ne

لوٹا مجھے اس کی ہر ادا نےانداز نے ناز نے حیا نے

دونوں نے کیا ہے مجھ کو رسواکچھ درد نے اور کچھ دوا نے

بے جا ہے تری جفا کا شکوہمارا مجھ کو مری وفا نے

پوشیدہ نہیں تمہاری چالیںکچھ مجھ سے کہا ہے نقش پا نے

کیوں جور کشان آسماں سےمنہ پھیر لیا تری جفا نے

دل کو مایوس کر دیا ہےبیگانہ مزاج آشنا نے

دونوں نے بڑھائی رونق حسنشوخی نے کبھی کبھی حیا نے

خوش پاتے ہیں مجھ کو دوست وحشتؔدل کا احوال کون جانے

— وحشت رضا علی