6 اشعار

جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگی

Jo tujh se shor-e-tabassum zara kami hogi

جو تجھ سے شور تبسم ذرا کمی ہوگیہمارے زخم جگر کی بڑی ہنسی ہوگی

رہا نہ ہوگا مرا شوق قتل بے تحسیںزبان خنجر قاتل نے داد دی ہوگی

تری نگاہ تجسس بھی پا نہیں سکتیاس آرزو کو جو دل میں کہیں چھپی ہوگی

مرے تو دل میں وہی شوق ہے جو پہلے تھاکچھ آپ ہی کی طبیعت بدل گئی ہوگی

بجھی دکھائی تو دیتی ہے آگ الفت کیمگر وہ دل کے کسی گوشے میں دبی ہوگی

کوئی غزل میں غزل ہے یہ حضرت وحشتؔخیال تھا کہ غزل آپ نے کہی ہوگی

— وحشت رضا علی