7 اشعار

جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کو

Juda karenge na hum dil se hasrat-e-dil ko

جدا کریں گے نہ ہم دل سے حسرت دل کوعزیز کیوں نہ رکھیں زندگی کے حاصل کو

نہاں اگرچہ ہے محفل سے سوز دل میرامگر یہ راز ہے معلوم شمع محفل کو

وہ طول کھینچا بلا کا ترے تغافل نےکہ صبر آ ہی گیا میرے مضطرب دل کو

کٹھن ہے کام تو ہمت سے کام لے اے دلبگاڑ کام نہ مشکل سمجھ کے مشکل کو

وہ کام میرا نہیں جس کا نیک ہو انجاموہ راہ میری نہیں جو گئی ہو منزل کو

خبر ہوئی نہ انہیں میرے مضطرب دل کیغلط خیال ہے یہ دل سے راہ ہے دل کو

بلا کی ہوتی ہے وحشتؔ کی بھی غزل خوانیکہ اک سرور سا ہوتا ہے اہل محفل کو

— وحشت رضا علی