9 اشعار

کسی صورت سے اس محفل میں جا کر

Kisi soorat se is mahfil mein ja kar

کسی صورت سے اس محفل میں جا کرمقدر ہم بھی دیکھیں آزما کر

تغافل کیش میں نے ہی بنایااسے حال دل شیدا سنا کر

اٹھا لینے سے تو دل کے رہا میںتو اب ظالم وفا کر یا جفا کر

ترے گلشن میں پہنچے کاش اک دننسیم آشنائی راہ پا کر

خوشی ان کو مبارک ہو الٰہیوہ خوش ہیں خاک میں مجھ کو ملا کر

دہن ہے رشک سے غنچے کا پرخوںکدھر دیکھا تھا تم نے مسکرا کر

وہ شرماتے ہیں سن کر وصل کا نامرہا ہوں میں جو چپ تو بات پا کر

ہوا وہ بے وفائی میں مسلمنشان تربت عاشق مٹا کر

گناہ اپنے مجھے یاد آئے وحشتؔخجل سا رہ گیا میں ہاتھ اٹھا کر

— وحشت رضا علی