5 اشعار

شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھے

Shauq phir koocha-e-jaanaan ka satata hai mujhe

شوق پھر کوچۂ جاناں کا ستاتا ہے مجھےمیں کہاں جاتا ہوں کوئی لیے جاتا ہے مجھے

جلوہ کس آئینہ رو کا ہے نگاہوں میں کہ پھردل حیرت زدہ آئینہ بناتا ہے مجھے

عاشقی شیوہ لڑکپن سے ہے اپنا ناصحکیا کروں میں کہ یہی کام کچھ آتا ہے مجھے

لطف کر لطف کہ پھر مجھ کو نہ دیکھے گا کبھییاد رکھ یاد کہ تو در سے اٹھاتا ہے مجھے

وحشتؔ اس مصرع جرأت نے مجھے مست کیاکچھ تو بھایا ہے کہ اب کچھ نہیں بھاتا ہے مجھے

— وحشت رضا علی