13 اشعار

کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سے

Kya hai ke aaj chalte ho katra ke raah se

کیا ہے کہ آج چلتے ہو کترا کے راہ سےدیکھو ادھر نگاہ ملا کر نگاہ سے

شرم جفا سے چھپتے ہو تم دادخواہ سےعذر گنہ تمہارا ہے بدتر گناہ سے

ان کی حیا و شرم نے رکھی ہے دل کی شرمکیا ہوگا جب نگاہ ملے گی نگاہ سے

انصاف بھی یہی ہے یہی شان حسن بھیہاں ہاں نظر چراؤ قتیل نگاہ سے

بیت الصنم سے دور نہیں ہے حرم کی راہکیوں راہ پوچھیں زاہد گم کردہ راہ سے

کیوں شکوہ ہم کریں عدم التفات کاوہ پوچھتے تو ہیں نگہ گاہ گاہ سے

زاہد ہزار حیف کہ پہنچا نہ کوئی فیضرندوں کے مے کدے کو تری خانقاہ سے

پروانوں کا ہجوم ہے شمع جمال پرجیتا پھرے گا کون تری جلوہ گاہ سے

شکوہ کروں تمہاری جفا کا تو رو سیاہدیکھو نہ تم مجھے نگہ عذر خواہ سے

خوشحالئ رقیب سے وہ شاد شاد ہیںیعنی ہیں بے خبر مرے حال تباہ سے

گردن جھکی ہوئی ہے اٹھاتے نہیں ہیں سرڈر ہے انہیں نگاہ لڑے گی نگاہ سے

نکلا نہ کوئی حیف یہاں قابل شکارصیاد خالی ہاتھ پھرا صید گاہ سے

ہر چند وحشتؔ اپنی غزل تھی گری ہوئیمحفل سخن کی گونج اٹھی واہ واہ سے

— وحشت رضا علی