5 اشعار

مروت کا پاس اور وفا کا لحاظ

Murawwat ka paas aur wafa ka lihaaz

مروت کا پاس اور وفا کا لحاظکرے آشنا آشنا کا لحاظ

دم سجدہ سر سخت تھا بے ادبکیا کچھ نہ اس نقش پا کا لحاظ

نہ محروم رکھ مجھ کو حسن قبولرہے کچھ تو دست دعا کا لحاظ

وہ ہیں پاس اب بس کر اے درد دلکرے کچھ مرض بھی دوا کا لحاظ

ملائی نہ وحشتؔ کبھی اس سے آنکھمجھے تھا جو اس کی حیا کا لحاظ

— وحشت رضا علی