10 اشعار

سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہ

Suroor afza hui aakhir sharaab aahista aahista

سرور افزا ہوئی آخر شراب آہستہ آہستہہوا وہ بزم مے میں بے حجاب آہستہ آہستہ

رخ روشن سے یوں اٹھی نقاب آہستہ آہستہکہ جیسے ہو طلوع آفتاب آہستہ آہستہ

کیا جب شوق نے اس سے خطاب آہستہ آہستہحیا نے بھی دیا آخر جواب آہستہ آہستہ

وہ مستی خیز نظریں رفتہ رفتہ لے اڑیں مجھ کوکیا کاشانۂ دل کو خراب آہستہ آہستہ

بڑھا ہنگامۂ شوق اس قدر بزم حریفاں میںکہ رخصت ہو گیا اس کا حجاب آہستہ آہستہ

کیا کامل ہمیں اک عمر میں سوز محبت نےہوئے ہم آتش غم سے کباب آہستہ آہستہ

عبث تھا ضبط کا دعویٰ ستم اس کے ستم نکلےنگاہیں ہو گئیں آخر پر آب آہستہ آہستہ

دبستان وفا میں عمر بھر کی صفحہ گردانیسمجھ میں آئی الفت کی کتاب آہستہ آہستہ

بقدر شوق اسے تاب طپیدہ تھی کہاں قاتلکیا بسمل نے تیرے اضطراب آہستہ آہستہ

بلا ہیں شاہدان شہر وحشتؔ مے پرستی میںہوا میں ان کی صحبت میں خراب آہستہ آہستہ

— وحشت رضا علی