5 اشعار

یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیا

Yahan har aane wala ban ke ibrat ka nishan aaya

یہاں ہر آنے والا بن کے عبرت کا نشاں آیاگیا زیر زمیں جو کوئی زیر آسماں آیا

نہ ہو گرم اس قدر اے شمع اس میں تیرا کیا بگڑااگر جلنے کو اک پروانۂ آتش بجاں آیا

خدا جانے ملا کیا مجھ کو جا کر ان کی محفل میںکہ باصد نامرادی بھی وہاں سے شادماں آیا

جمایا رنگ اپنا میں نے مٹ کر تیرے کوچے میںیقین عشق میرا اب تو تجھ کو بدگماں آیا

نہ ہو آزردہ تو آزردگی کا کون موقع ہےاگر محفل میں تیری وحشتؔ آزردہ جاں آیا

— وحشت رضا علی