14 اشعار

میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کا

Maine mana kaam hai nala-e-dil-e-nashad ka

میں نے مانا کام ہے نالہ دل ناشاد کاہے تغافل شیوہ آخر کس ستم ایجاد کا

ہائے وہ دل جو ہدف تھا ناوک بیداد کادرد سہتا ہے وہی اب غفلت صیاد کا

نرگس مستانہ میں کیفیت جام شرابقامت رعنا پہ عالم مصرعۂ استاد کا

مانع فریاد ہے کچھ طبع کی افسردگیکچھ سکوت آموز ہے پاس ادب صیاد کا

اس قدر دل کش رہا تیرا اگر انداز جورزخم دل منہ چوم لے گا خنجر بیداد کا

مجلس ماتم بنی آنے سے ان کے بزم عیشپڑ گیا پھولوں میں میرے غل مبارک باد کا

تو نہ کر ترک ستم ظالم ستم ہو جائے گاجان سے جائے گا خوگر لذت بیداد کا

درد ناکام ہجوم آرزو کا ہے مآلتلخئ حسرت نتیجہ شوق الفت زاد کا

حسرت افزا ہے بہت میرے دل ویراں کا جالکون ہے فرماں روا اس ملک غیر آباد کا

لطف ہی آتا رہا ہے سعی باطل میں مجھےہے یہاں افسوس کس کو محنت برباد کا

کھینچ کر لے چل مجھے شوق اسیری سوئے دامکام ایسا کر کہ جس سے جی بڑھے صیاد کا

کس کو شکوہ ہجر کا اور کس کو حسرت وصل کیلطف پروردہ ہے میرا دل کسی کی یاد کا

یہ ادائے دلربایانہ یہ انداز حیاکس طرح پھر کام کرتی ہے نظر جلاد کا

وحشتؔ اس بت نے تغافل جب کیا اپنا شعارکام خاموشی سے میں نے بھی لیا فریاد کا

— وحشت رضا علی