7 اشعار

نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھے

Nahin ke ishq nahin hai gul-o-saman se mujhe

نہیں کہ عشق نہیں ہے گل و سمن سے مجھےدل فسردہ لیے جاتا ہے چمن سے مجھے

مثال شمع ہے رونا بھی اور جلنا بھییہی تو فائدہ ہے تیری انجمن سے مجھے

بڑھی ہے یاس سے کچھ ایسی وحشت خاطرنکال کر ہی رہے گی یہ اب وطن سے مجھے

عزیز اگر نہیں رکھتا نہ رکھ ذلیل ہی رکھمگر نکال نہ تو اپنی انجمن سے مجھے

وطن سمجھنے لگا ہوں میں دشت غربت کوزمانہ ہو گیا نکلے ہوئے وطن سے مجھے

مرے بھی داغ جگر مثل لالہ ہیں رنگیںہے چشمک اس گل خوبی کے بانکپن سے مجھے

چھپا نہ گوشہ نشینی سے راز دل وحشتؔکہ جانتا ہے زمانہ مرے سخن سے مجھے

— وحشت رضا علی