5 اشعار

نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلے

Nahin mumkin lab-e-aashiq se harf-e-muddaa nikle

نہیں ممکن لب عاشق سے حرف مدعا نکلےجسے تم نے کیا خاموش اس سے کیا صدا نکلے

قیامت اک بپا ہے سینۂ مجروح الفت میںنہ تیر دلنشیں نکلے نہ جان مبتلا نکلے

تمہارے خوگر بیداد کو کیا لطف کی حاجتوفا ایسی نہ کرنا تم جو آخر کو جفا نکلے

گماں تھا کام دل اغیار تم سے پاتے ہیں لیکنہماری طرح وہ بھی کشتۂ تیغ جفا نکلے

زبردستی غزل کہنے پہ تم آمادہ ہو وحشتؔطبیعت جب نہ ہو حاضر تو پھر مضمون کیا نکلے

— وحشت رضا علی