13 اشعار

شوق نے عشرت کا ساماں کر دیا

Shauq ne ishrat ka samaan kar diya

شوق نے عشرت کا ساماں کر دیادل کو محو روئے جاناں کر دیا

تو نے اے جمعیت دل کی ہوساور بھی مجھ کو پریشاں کر دیا

واہ رے زخم محبت کی خلشجس کو دل نے راحت جاں کر دیا

خود نمائی خود فروشی ہو گئیآپ نے اپنے کو ارزاں کر دیا

ان کے دامن تک نہ پہنچا دست شوقاس کو مصروف گریباں کر دیا

بزم میں جب غیر پر ڈالی نظرآپ نے مجھ پر بھی احساں کر دیا

کچھ بڑھا کر میں نے بہر شرح غمچاک کو عنوان داماں کر دیا

جھک گئی آخر حیا سے ان کی آنکھشوق نے مجھ کو پشیماں کر دیا

پائے بت پر میں نے دو سجدے کئےکفر کو بھی جزو ایماں کر دیا

اسے خیال لیلیٰ مجنوں نوازتو نے صحرا کو گلستاں کر دیا

ہو کے زائل قوت احساس نےمشکلوں کو میری آساں کر دیا

دل نہیں جاتا تھا سوئے راہ دیرکیسے کافر کو مسلماں کر دیا

تو نے وحشتؔ کیوں خلاف رسم عشقدرد کو رسوائے درماں کر دیا

— وحشت رضا علی