9 اشعار

نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہے

Nalon se agar maine kabhi kaam liya hai

نالوں سے اگر میں نے کبھی کام لیا ہےخود ہی اثر نالہ سے دل تھام لیا ہے

آزادئ اندوہ فزا سے ہے رہائیاب میں نے کچھ آرام تہ دام لیا ہے

اٹھتی تھیں امنگیں انہیں بڑھنے نہ دیا پھرمیں نے دل ناکام سے اک کام لیا ہے

جز مشغلۂ نالہ و فریاد نہ تھا کچھجو کام کہ دل سے سحر و شام لیا ہے

خود پوچھ لو تم اپنی نگاہوں سے وہ کیا تھاجو تم نے دیا میں نے وہ پیغام لیا ہے

تھا تیرا اشارا کہ نہ تھا میں نے دیا دلاور اپنے ہی سر جرم کا الزام لیا ہے

غم کیسے غلط کرتے جدائی میں تری ہمڈھونڈا ہے تجھے ہاتھ میں جب جام لیا ہے

آرام کے اب نام سے میں ڈرنے لگا ہوںتکلیف اٹھائی ہے جب آرام لیا ہے

معلوم نہیں خوب ہے جو واقف فن ہیںوحشتؔ نے محاکات سے کیا کام لیا ہے

— وحشت رضا علی