10 اشعار

شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشق

Shauq deta hai mujhe paigham-e-ishq

شوق دیتا ہے مجھے پیغام عشقہاتھ میں لبریز لے کر جام عشق

آپ ہوں ذوق اسیری سے خرابکوئی لے جائے مجھے تا دام عشق

اشتیاق سجدہ سے بیتاب ہوںاے حریم کعبۂ اسلام عشق

قیس و وامق سے کہاں اب اہل دلتھا انہیں لوگوں سے روشن نام عشق

نعش پر فرہاد کے شیریں گئیوہ ستم پروردۂ آلام عشق

اور یوں کرنے لگی رو کر خطاباے وفا کی جان اے ناکام عشق

تجھ سے رونق آشنا ہے صبح شوقتجھ سے زینت آفریں ہے شام عشق

جان دے کر تو تو چھوٹا رنج سےرہ گئی میں ہی بلا آشام عشق

تیرا مرنا عشق کا آغاز تھاموت پر ہوگا مرے انجام عشق

وحشتؔ وحشی کہ تھا سب سے الگہو گیا کیا بے تکلف رام عشق

— وحشت رضا علی