7 اشعار

تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیں

Talkhi-e-kash naumeedi-e-didaar bahut hain

تلخی کش نومیدئ دیدار بہت ہیںاس نرگس بیمار کے بیمار بہت ہیں

عالم پہ ہے چھایا ہوا اک یاس کا عالمیعنی کہ تمنا کے گرفتار بہت ہیں

اک وصل کی تدبیر ہے اک ہجر میں جیناجو کام کہ کرنے ہیں وہ دشوار بہت ہیں

وہ تیرا خریدار قدیم آج کہاں ہےیہ سچ ہے کہ اب تیرے خریدار بہت ہیں

محنت ہو مصیبت ہو ستم ہو تو مزا ہےملنا ترا آساں ہے طلب گار بہت ہیں

عشاق کی پرواہ نہیں خود تجھ کو وگرنہجی تجھ پہ فدا کرنے کو تیار بہت ہیں

وحشتؔ سخن و لطف سخن اور ہی شے ہےدیوان میں یاروں کے تو اشعار بہت ہیں

— وحشت رضا علی