7 اشعار

تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہے

Tu hai aur aish hai aur anjuman-arai hai

تو ہے اور عیش ہے اور انجمن آرائی ہےمیں ہوں اور رنج ہے اور گوشۂ تنہائی ہے

سچ کہا ہے کہ بہ امید ہے دنیا قائمدل حسرت زدہ بھی تیرا تمنائی ہے

دل کی فریاد جو سنتا ہوں تو رو دیتا ہوںچوٹ کمبخت نے کچھ ایسی ہی تو کھائی ہے

بے نیازی کی ادائیں وہ دکھاتے ہیں بہتخوئے تسلیم مری ان کو پسند آئی ہے

زلف برہم مژہ برگشتہ جبیں چین آلودمیری بگڑی ہوئی تقدیر کی بن آئی ہے

ادب آموز بلا کا ہے تغافل ان کاشوق پر حوصلہ نے خوب سزا پائی ہے

کہے دیتا ہوں کسی اور کی جانب تو نہ دیکھکیا یہ کچھ کم ہے کہ وحشتؔ ترا سودائی ہے

— وحشت رضا علی