12 اشعار

بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں

Bayaz-e-shab-o-roz par dastkhat tere qadmon ke hon

بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں

«بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوں» وزیر آغا کا کلام ہے، جسے مرزا جواد نے سحرِ بیاں کی ایکس سپیس «اس کی آواز میں تھے سارے خدوخال اس کے (ڈاکٹروزیر آغا)» میں 20 نومبر 2025 کو اپنی آواز میں پیش کیا۔ ریکارڈنگ کا دورانیہ 1 منٹ 24 سیکنڈ ہے۔

بیاض شب و روز پر دستخط تیرے قدموں کے ہوںبدن کے پسینے سے قرنوں کے اوراق مہکیں

صبا تیرے رستے سے کنکر ہٹائےفلک پر گرجتا ہوا گرم بادل

ترے تن کی قوس قزح کالرزتا دمکتا ہوا کوئی منظر دکھائے

تجھے ہر قدم پر ملیں منزلیںہوا ایک باریک سے تیز چابک کی صورت

تری بند مٹھی میں دبکی رہےسدا تجھ کو حیرت سے دیکھے زمانہ

تو بہتے ہوئے تیز دھاروں کی منزل بنےبادباں سارے تیری ہی جانب کھلیں

اور افق کی منڈیروں پہ کونجوں کی لمبی قطاریںتری منتظر ہوں

اگر میں زمیں کے سیہ تنگ پاتال میں گر بھی جاؤں تو کیا ہےتجھے تو زمیں کورے کاغذ کی صورت ملے

بیاض شب و روز پر دستخط ترے قدموں کے ہوںچہکتے ہوئے تینوں نٹکھٹ زمانے

ترے گرد ناچیںتو بنسی کی تانوں سے ہر شے کو پاگل کرے نذر آتش کرے

توڑ ڈالےمگر خود نہ ٹوٹے

مگر خود نہ ٹوٹےکبھی تو نہ ٹوٹے

— وزیر آغا

کس نے پڑھا

یہ کلام محفلوں میں